زخموں کا آءینہ نہ کہو
زخموں کا آئنہ نہ کہو ۔ راحت اِندوری ہر ایک چہرے کو زخموں کا آئنہ نہ کہو یہ زندگی تو ہے رحمت اُسے سزہ نہ کہو نہ جانے کونسی مجبوریوں کا قیدی ہو وُ ساتھ چھوڑگیا ہے تو بیوفانہ کہو تمام شہرنےنیزوں پہ کیوں اُچھالا ہے مُجھے یہ اِتُّفاق تھا تم [...]